Monthly Archives: March 2018

26Mar/18

ہدایت کی راہ کے راہزن۔ ایمان مغازی الشرقاوی ترجمہ: میمونہ حمزہ

جب اﷲ تعالی نے انسان کو تخلیق کیا، تو اسے عزت بخشی اورفرشتوں نے اسے سجدہ کیا۔ پھر اسے خیر اور شر کا راستہ دکھا دیا، عظیم مقصد ِ تخلیق پورا کر نے کے لئے جن وسائل اور سہولیات کی اسے ضرورت تھی وہ بھی عطا کر دئیے، اور اس پر اپنی نعمت کے اظہار کے بعد فرمایا: کیا ہم نے اسے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دئیے، اور (نیکی اور بدی کے) دو نمایاں راستے اسے (نہیں) دکھا دئیے؟ (البلد ۸ ۔ ۱۰)
اسے سیدھا راستہ اختیار کرنے اور اس پر ثبات کی تعلیم دی، اور فرمایا: اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلوکہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو۔(الانعام، ۱۵۳)
یہ اس وجہ سے کہ یہی وہ راستہ ہے جو اسے اس کی امیدوں اور آرزؤوں تک پہنچانے کا ضامن ہے، اور وہ بحیثیت انسان اس کی کرامت اور عزت کی بھی حفاظت کرتا ہے، اور وہ اس کے معتبر ارادے، آزاد مرضی اور سوچنے والے دماغ اور باخبر دل کا نگران ہے۔
تو کیا جب انسان اسلام قبول کرتا ہے تو وہ پورے اطمینان کے ساتھ سیدھے راستے پر گامزن رہتا ہے، حتیٰ کہ انجام تک پہنچ جاتا ہے، یا یہاں ایسی قوتیں بھی ہیں جو زیادتی اور حسد کے ساتھ اس کا راستہ کاٹنا چاہتی ہیں، یا اسے دھوکے میں ڈال کر اور فتنے میں مبتلا کر کے، یا کبر و غرور میں ڈال کر اس کی منزل کھوٹی کرنا چاہتی ہیں؟! گویا کہ میں اس راستے پر چلنا شروع کرتا ہوںتو کتنے ہی راہزن راہ میں کھڑے ہیں، جن کے فتنوں کے کتنے ہی نام ہیں، اور ان کی کتنی ہی متنوع شکلیں ہیں، انہوں نے خود کو کتنے خوش کن لبادوں میں لپیٹ رکھا ہے، اور دھوکے کے لئے کتنے خوبصورت روپ اختیار کر رکھے ہیں، ان کی پرکشش اور مدہوش کن خوشبوپھیل رہی ہے، یہ وہی لوگ ہیں جو کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کے دلوں پر غلاف چڑھا رہے،اور وہ ان کے اندر فساد پھیلا رہے ہیں، انکا ہدف اﷲ کی بندگی کرنے والے افراد ہیں، تاکہ وہ ان کے درمیان خلیج پیدا کر کے انہیں غلط فہمیوں اور شبہات میں مبتلا کریں، ان کے دین میں اشکالات پیدا کریں، اور انہیں اس راہ سے روک دیں۔
اسی لئے جو اﷲ کے سیدھے راستے پر چل رہا ہو، اسے ثابت قدمی اختیار کرنی چاہیے، اور کسی راہزن کے قبضے میں پہنچنے سے چوکنا رہنا چاہیے، کیونکہ ایسے راہزن گھات میں بیٹھے رہتے ہیں، تاکہ اس کا راستہ کاٹیں، اور وہ عمل سے باز آجائے، یا وہ اسے واپس پلٹا لائیں، اور اتنی محنت اور اتنا راستہ طے کرنے کے بعد وہ اسے دوبارہ پہلی جگہ پر پہنچا دیں۔اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے راستے میں مکاروں کی سازشیں ہیں، اور مایوسی پھیلانے والوں کا گمراہ کن پروپیگنڈا ہے، اس جدوجہد میں شریک افراد کے لئے مختلف چیلنجز ہیں، تاکہ ان کی جدوجہد محدود رہے، اور ان کی طاقت دفاع، بچاؤ، روکنے اور قدم مضبوط کرنے میں لگی رہے، اور وہ اس سے رک جائیں، اور ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں۔
اگرلوگ احتیاط برتیں تو وہ انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گے، وہ اپنے محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھ کر کوشش کریں گے کہ لوگوں کو حسنِ عمل سے دور کر دیں، اور قبیح اعمال مزین بنا کر ان کے سامنے پیش کریں، اگر وہ ایک لمحے کے لئے بھی غافل ہوئے تو وہ ان سے اعلیٰ اور قیمتی اور چوٹی کے اعمال چھین لیں گے جو وہ راہ ِ جہاد اور ان کے شر سے بچنے کے لئے کر رہے ہیں ۔ کیا ہم نے کہا نہیں کہ یہ چور ہیں، جوفساد مچا کر ان سے خیر چرانا چاہتے ہیں، اور حق کی صورت کو مبہم بنا کر ان کے سامنے گمراہی بکھیرنا چاہتے ہیں، وہ جھوٹی امیدیں دلاتے ہیں،اور چاہتے ہیں کہ کم از کم وہ تاخیری حربے ہی اپنانا شروع کر دے، اور وہ پیچھے کی جانب سفر شروع کر دے، وہ مکارانہ انداز میں انتظار کرواتے ہیں، تاکہ موقع پا کر اسے نیچے گرا دیں، اور اس پر چڑھ دوڑیں، اور اگر ممکن ہو تو اس کا خاتمہ کر دیں، وہ جھوٹ کہتے ہیں کہ وہ یہ سب نصیحت کے طور پر حسن ِ نیت کے ساتھ کہہ رہے ہیں،اور وہ بڑی دیدہ دلیری اور اصرار کے ساتھ بہتان لگاتے ہیں، اور خوش نصیب ہیں جنہیں ان کے خلاف اﷲ کی مدد مل جائے، اور وہ بھاگ اٹھیں، لیکن آپ لوگوں کو ان کی پکڑ اور ان کے شر سے چوکنا کرتے رہیں، تاکہ وہ اور ان کی ذریت ان سے محفوظ رہیں، وہ سب بچ جائیں، اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب و کامران ٹھہریں۔
انسان کی نجات حاصل کرنے کی حرص:
اﷲ تعالیٰ نے ہر انسان کی جبلت میں رکھا ہے کہ وہ اپنی نجات کا حریص ہے، اگرچہ اس خواہش کی صورت اور اس کی مقدار مختلف افراد میں مختلف ہوتی ہے، اور نجات کی راہیں بھی متنوع ہیں، اس کی متعدد شکلیں ہیں، ان میں سے بعض ایجابی شکل اختیار کرتے ہیں اور بعض سلبی، لیکن ہر ایک یہی گمان کرتا ہے کہ یہ کوشش اسے ساحل ِ امان اور نجات تک لے جائے گی۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی میں ان کی نجات بس دنیا کی زندگی ہی کی کامیابی ہے؛ وہ آخرت کے بارے میں نہیں سوچتے، وہاں نہ ان کو ثواب کی امید ہے نہ عذاب کی، یہ وہ لوگ ہیں جو اﷲ پر ایمان نہیں رکھتے، اور نہ آخرت پر کسی قسم کا ایمان رکھتے ہیں ۔۔ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ جن چیزوں کو اپنے علم کی بنا پر ضرر رساں سمجھتے ہیں ان سے دور رہتے ہیں، اور جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوتا ہے اس کے لئے پریشان ہوتے ہیں، اگرچہ وہ ان کے لئے مناسب نہ ہو، وہ ہر خواہش اور شہوت کو پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ یہی نجات کی صورت ہے، کلی نجات کی۔
رہے اﷲ کے نیک بندے، جو حقیقت میں اﷲ پر ایمان رکھتے ہیں، اور اس کے رب ہونے پر راضی ہیں، تو ایسے سب لوگ نجات حاصل کرنے کے لئے انہیں پختہ راہوں پر چلتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے مقرر کی گئی ہیں، اگرچہ ان پر چلتے ہوئے انہیں تھکاوٹ لاحق ہو، یا مشقت اور جانفشانی کرنی پڑے، وہ جانتے ہیں کہ یہاں جگہ جگہ چور اور اٹھائی گیر اور راہزن بیٹھے ہیں، جو لوگوں کو خیر کی راہوں سے روکتے ہیں، اور ان راستوں سے منع کرتے ہیں، بعض اوقات تو ایسے لوگ آپ کے انتہائی قریب ہوتے ہیں، بالکل ایسے جیسے پہلو میں بیٹھا ہوا ساتھی، مگر وہ آپ کے کٹڑ دشمن بن جاتے ہیں، تاکہ آپ اﷲ کے راستے پر محنت نہ کر سکیں، اگر آپ ان کے لئے نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں، تو ذرا دیر نہ گزرے گی کہ وہ آپ کو قول و فعل اور اخلاق کے لحاظ سے نفس ِ امارہ کے حوالے کر دیں گے، پھر اور بہت سے دشمن آپ کو اچک لیں گے، جن کے ذریعے شیطان مردود فحش اور منکر کا حکم دیتا ہے، اور دنیا کو اثر انداز فتنے کے روپ میں پیش کرتا ہے، پھر نہ کوئی مقصد رہتا ہے نہ وسیلہ، اور گمراہ کن خواہشات اسے اپنا پیروکار بنا لیتی ہیں، اور حکم دیتی اور منع کرتی ہیں، تاکہ وہ سب مل کر راہزنوں کا ایک گروہ بن جائیں، جو اعلانیہ اور خفیہ طور پر کام کرتے رہیں، اور کھلے اور چھپے منصوبے بناتے رہیں ۔
پس اسی لئے اﷲکے خالص بندے چوکنے رہتے ہیں، اور ان راہزنوں کی حرکات کا بڑے غور سے جائزہ لیتے ہیں، اور ان کی گھات سے باہر انتظار کرتے ہیں، اور اﷲ سے استعانت طلب کرتے ہیں، پس راہزنوں کو ان پر دست درازی کا موقع نہیں ملتا، ان کے لئے اﷲ تعالی کا فرمان ان کے دشمن ِ اول کے بارے میں کافی ہے، جو شیطان الرجیم ہے یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار حاصل نہ ہو گا، اور توکل کے لئے تیرا رب کافی ہے۔(الاسراء، ۶۵) پس آپس میں اس چالاک دشمن کے خلاف ایک دوسرے کو جہاد کی نصیحت کرو، جبکہ وہ اپنے گروپ کا لیڈر ہے! اور اس کی شکایت اس کے رب اور مالک سے کرو تاکہ وہ ان سب سے اپنا عذاب ٹال دے ۔
سلف میں سے کسی سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے شاگرد سے پوچھا: جب تمہیں شیطان خطاؤں کے لئے دھوکے میں ڈالتا ہے تو تم کیا کرتے ہو؟ وہ بولا: میں مجاہدہ کروں گا۔ پوچھا: اگر وہ دوبارہ کوشش کرے؟ کہا: میںپھر مجاہدہ کروں گا۔ پوچھا: اگر پھر اس نے حملہ کیا؟ بولا: میں پھر مجاہدہ کروں گا ۔ کہا: یہ تو بہت طویل ہو جائے گا، تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم بکریوں کے ریوڑ کے پاس سے گزرو، تو (ان کا رکھوالا ) کتا تم پر بھونکنے لگے، یا تمہیں راستہ عبور نہ کرنے دے، تو تم کیا کرو گے؟ بولا :میں بار بار گزرنے کی کوشش کروں گا۔ کہنے لگے: یہ تو تم پر بہت طویل ہو جائے گا، لیکن اگر تم بکریوں کے مالک سے مدد مانگو گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔
یہاں تک کہ چناؤ مکمل ہو جائے، اور مخلوق کی بندگی خالق کے لئے ثابت ہو جائے، اﷲ نے اس دنیا کو امتحان اور ابتلاء کا گھر بنایا ہے، اور جانچ اور آزمائش کی جگہ۔ نجات کا راستہ مکاروں کی چالبازیوں اور شہوات، فتنوں اور شبہات سے گھرا ہوا ہے، پس ہماری دنیا کی زندگی ایک بڑے سے کمرہء امتحان کی مانند ہے، جس کے مختلف گوشوں میں رب العالمین کی طرف سے ہر وقت جنت میں داخلے کے مختلف ٹیسٹ اور امتحان ہوتے رہتے ہیں، اور ہماری عمریں وہ محدود و معین وقت ہیں جس میں ہم نے اس بڑے امتحان میں کامیابی اور رضا مندی کا درجہ حاصل کرنا ہے، رہا ہمارے اخلاص کا صدق، اور ہماری قوت ِ ایمانی تو یہ کامیابی ، تفوق اور ترقی کی علامت ہیں، جنہیں پار کر کے ہی ہم کامیابی کی شاہراہ پر پہنچ سکتے ہیں، اﷲ تعالیٰ نے بھی ہمیں یاد دہانی کروائی ہے: جس نے زندگی اور موت کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ (الملک، ۲)
عقلمند و دانا وہ ہے جس نے زندگی میں تیاری مکمل کر لی، اور ہمت کی کٹھالی میں اسے خوب پیس لیا، اور طاقت اور امان کے اسلحے سے مسلح ہو کر جرأت سے ہر اس شخص کے راستے میں ڈٹ کر کھڑا ہو گیا جو اس کے رب کی طرف جانے کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔ صالحین نے اسی طریقے کو اپنایا، تو انہیں معلوم ہوا کہ اس کی گھات مختلف راہوں پر لگی ہوئی ہے، اور وہ ان کے مستقر اور ٹھکانوں تک پہنچتے ہیں، اور یہ (صالحین ) درست راستہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ وہ اس پر چلیں، اور اس کے طویل راستوں پر جو بھی چور اچکا، یا حریت اور امن کا دشمن ملے وہ اس سے چوکنا رہیں، اور وہ اﷲ کے دامن میں پناہ لیں، تاکہ وہ انہیں کامیاب کر دے، اور وہ اسی سے صبر وثبات اور حفاظت سے منزل تک پہنچ جائیں۔
نجات اور منزل تک پہنچنے کے اسباب کی تلاش:
اگر آپ واقعی نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو اس کے اسباب اختیار کیجئے، اور اس خیر کو صرف اپنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ان نیک لوگوں میں شامل ہو جائیے، جو ایک دوسرے کو اس کی تلقین کرتے رہتے ہیں، اور اس کی دعوت دیتے ہیں، اور بلندیوں تک پہنچنے کے خواہاں ہوتے ہیں، اور نیچے گرنے اور ہلاکت سے ڈرتے رہتے ہیں، پس علیؓ بن ابی طالب بھی ایسے ہی راہزن سے چوکنا کرتے ہیں، جو ہمارا راستہ کاٹنا چاہتا ہے، خواہ ظاہری طور پر یا خفیہ طریقے سے، اگرچہ وہ ہمارے سامنے خوب رنگ چڑھا کر آئے، اور اس کا حسن ظاہر ہو رہا ہو، آپ فرماتے ہیں:
’’بیشک دنیا نے پیچھے کی جانب سفر شروع کر دیا ہے، اور آخری سامنے آنے والی ہے، اور (اس دنیا میں) ان دونوں کے بیٹے ہیں، پس تم آخرت کے بیٹے بنو، اور دنیا کے بیٹے نہ بنو، خبردار زاہدوں نے اس دنیا میں زمین کو بچھونا بنایا، اور مٹی کو فرش، اور پانی کو تازگی، خبر دار جو جنت کے مشتاق تھے انہوں نے شہوات کو بھلا دیا، اور جو آگ سے خوفزدہ ہوئے، انہوں نے حرام کردہ اشیاء چھوڑ دیں، اور جس نے دنیا کا زہد اختیار کیا، اس کے لئے مصیبتیں ہلکی ہو گئیں۔خبردار بلاشبہ اﷲ کے ایسے بندے بھی ہیں جو ایسے دیکھتے ہیں جیسے اہل ِ جنت کو ہمیشہ کی جنتوں میں دیکھ رہے ہوں، اور اہل ِ جہنم کو جہنم میں عذاب میں دیکھ رہے ہوں، وہ اس کے شر سے امن چاہتے ہیں، ان کے دل غمگین ہوتے ہیں، اور ان کے نفوس پاکدامن ہوتے ہیں، ان کی ضروریات مختصر ہوتی ہیں، وہ اس طویل سفر کے انجام کے لئے اتنے دن صبر کرتے ہیں، ان کی راتیں صف باندھے بسر ہوتی ہیں، ان کے آنسو ان کے گالوں پر بہتے رہتے ہیں، وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے اسے پکارتے رہتے ہیں: ربنا ربنا، وہ اپنی گردن چھڑانے کا مطالبہ کرتے ہیں، یہ ہے ان کی راتوں کا حال! اور وہ دن کے عالم ہیں، حلیم طبیعت، نیکو کار و متقی، گویا کہ وہ ایسا پیالہ ہیں جس کو دیکھنے والا سوال کرتا ہے: یہ بیمار ہیں؟ لیکن ان لوگوں کو کوئی مرض لاحق نہیں، اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ میں کوئی خرابی ہے، مگر حقیقت میں لوگوں نے ایک بڑے معاملے کو خلط ملط کر دیا ہے‘‘۔
آپؐ فرماتے ہیں: ’’مجھے تمہارے بارے میں دو چیزوں کا خوف لاحق ہے: لمبی عمر، اور خواہشات کی پیروی، کیونکہ لمبی عمر آخرت بھلا دیتی ہے، اور خواہشات کی پیروی حق سے روکتی ہے۔ آج عمل کا دن ہے اور حساب نہیں، اور کل حسا ب ہو گا، اور عمل (کا موقع) نہیں‘‘۔
ابلیس
یہ اس دنیا کی زندگی کا سب سے بڑا راہزن ہے؛ بلکہ یہ اس طویل راستے پر راہزنوں کا لیڈر اور ان کا رہنما ہے،اس نے اس پر قسم کھائی ہے، اور بار بار کوشش کی ہے، بلکہ وہ اب تک ہر بنی آدم کے لئے اس کی کوشش کر رہا ہے، خواہ ان کاکوئی بھی رنگ، شکل، زبان اور طبقہ ہو؛ تاکہ وہ ان کے دلوں میں محفوظ ایمان چرا لے، وہ ان کی پہلی پیدائش کے دن سے ان کی پہلی فطرت چرانے کے لئے کوشاں ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ ان کی اس فطرت کو مسخ کر ڈالے، تاکہ اس کا وجود تک باقی نہ رہے، یا وہ اس کی جگہ کچھ اور طریقہ اپنا لیں، یاوہ اسے بدل ڈالے، تاکہ وہ اور بنی آدم ایک ساتھ برابر ہو جائیں، وہ ان کے بھلائی کے راستے کو کاٹتا ہے، جو سیدھا مالک الملک تک پہنچتا ہے، اس کی کوشش کچھ لوگوں کے ساتھ کامیاب ہو جاتی ہے اور کچھ کے مقابلے میں ناکام، لیکن وہ خود اس سفر کے اختتام پر پریشان حال اور مغلوب ہو گا، اس پر لعنت چسپاں ہو گی، اور وہ کھلے نقصان میں گھرا ہوا ہو گا، کیونکہ اس کے اندر تکبر تھا، اور ٹیڑھ اور گمراہی تھی اور وہ دھوکے باز تھا۔
تو کیا ہم پسند کریں گے کہ یہ ملعون ہمارا راستہ کاٹے، جبکہ ہم دنیا کی اس زندگی میں اﷲ عزوجل کی جانب چل رہے ہوں؟ اور کیا ہم اس راستے پر بلا کسی حفاظت اور بلا اسلحہ نکل کھڑے ہوں گے؟!
المجتمع، العدد ۱۹۶۳، ۲۹ شعبان ۱۴۳۲ھ، ۳۰۔ ۷۔ ۲۰۱۱ء
المجتمع، العدد۱۹۶۴، ۶ رمضان۱۴۳۲ہ، ۶۔ ۸۔ ۲۰۱۱ء