Monthly Archives: March 2018

26Mar/18

سیرت کا پیغام۔۔۔۔سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ

رسول اللہ ؐ کی سیرت کے پیغام پر اگر منطقی ترتیب کے ساتھ کلام کیا جائے تو سب سے پہلے ہمارے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ ایک نبی کی سیرت ہی کا پیغام کیوں ؟ کسی اور کا پیغام کیوں نہیں ؟ اس سوال پر آغاز ہی میں بحث کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ہمارا ذہن اس بات پر پوری طرح مطمئن ہو جائے کہ در حقیقت ہم قدیم اور جدید زمانوں کے کسی رہنما کی سیرت میں نہیں بلکہ محمدؐ کی زندگی ہی میں ہم کو وہ صحیح اور مکمل ہدایت مل سکتی ہے جس کے ہم فی الواقع محتاج ہے۔
رسول اللہ ؐ تمام انبیاء اور پیشوایان مذاہب میں ( اس لحاظ سے ) یکتا ہیں کہ آپ ؐ کی لائی ہوئی کتاب کی طرح آپ ؐ کی سیرت بھی محفوظ ہے جس سے ہم زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں ۔بچپن سے لے کر آخری سانس تک جتنے لوگوں نے آپ ؐ کو دیکھا ، آپ کے حالات زندگی د یکھے ، آپ ؐ کے اقوال سنے ، آپ ؐ کی تقریریں سنیں ، آپؐ کو کسی چیز کا حکم دیتے سنایا کسی چیز سے منع کرتے سنا ، ان کی ایک عظیم تعداد نے سب کچھ یاد رکھا اور بعد کی نسل تک اسے پہنچایا ۔ بعض محققین کے نزدیک ایسے لوگوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچتی ہے جنہوں نے آنکھوں دیکھے اور کانوں سنے ہوئے واقعات بعد کی نسل تک منتقل کئے تھے ۔ رسول اللہ ؐ نے بعض احکام خود لکھوا کر بھی بعض لوگوں کو دئیے یا بھیجے تھے جو بعد کے لوگوں کو ملے ۔ صحابہ میں سے کم از کم چھ اصحاب ایسے تھے جنہوں نے آپ ؐ کی احادیث لکھ کر آپ ؐ کو سنا دی تھیں تاکہ ان میں کوئی غلطی نہ رہ جائے ۔ یہ تحریریں بھی بعد کے آنے والوں کو ملیں ۔ حضورؐ کی وفات کے بعد کم از کم پچاس صحابہ نے آپ ؐ کے حالات ، واقعات اور اقوال تحریری صورت میں جمع کیے اور یہ ذخیرہ علم بھی ان لوگوں تک پہنچا جنہوں نے بعد میں احادیث کو جمع اور مرتب کرنے کی خدمت انجام دی۔
پھر جن صحابہ ؓ نے سیرت کی معلومات زبانی روایت کیں ان کی تعداد ، جیسا کہ ابھی میں عرض کر چکا ہوں ، بعض محققین کے نزدیک ایک لاکھ تک پہنچتی ہے اور یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ آخری حج جو رسول اللہ ؐ نے ادا فرمایا ، جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے، اس میں ایک لاکھ چالیس ہزار آدمی موجود تھے ۔ اتنے آدمیوں نے آپؐ کو حج کرتے ہوئے دیکھا ۔ آپؐ سے حج کا طریقہ سیکھا ۔ وہ تقریریں سنیں جو اس حج کے موقع پر آپ ؐ نے کی تھیں ۔ کیسے ممکن ہے کہ اتنے لوگ جب ایسے اہم موقع پر آپؐ کے ساتھ حج میں شریک ہونے کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں واپس پہنچے ہوں گے تو وہاں ان کے عزیزوں ، دوستوں اور ہم وطنوں نے ان سے اس سفر کے حالات نہ پوچھے ہوں اور حج کے احکام دریافت نہ کیے ہوں ۔ اسی سے اندازہ کر لیجئے کہ رسول اللہ ؐ جیسی عظیم شخصیت کے اس دنیا سے گزر جانے کے بعد لوگوں کس اشتیاق کے ساتھ آپ ؐ کے احوال و اقوال اور احکام و ہدایات ان لوگوں سے پوچھتے ہوں گے جنہوںنے آپ ؐ کو دیکھا تھا اور آپ ؐ کے ارشادات سنے تھے ۔
صحابہ ؓ سے جو روایات بعد کی نسلوں کو پہنچی تھیں ، ان کے بارے میں ابتداہی سے یہ طریقہ اختیار کیا گیا تھا کہ جو شخص بھی رسول ؐ کی طرف منسوب کر کے کوئی بات کہتا ، اس کو یہ بتانا پڑتا تھا کہ اس نے وہ بات کس سے سنی ہے اور اوپر سلسلہ بہ سلسلہ کون کس سے وہ بات سنتا اور آگے بیان کرتا رہا ہے ۔ اس طرح رسول اللہ ؐ تک روایت کی پوری کڑیاں دیکھتی جاتی تھیں تاکہ یہ اطمینان کرلیا جائے کہ وہ صحیح طور سے حضورؐ سے منقول ہوئی ہے ۔ اگر روایت کی پوری کڑیاں نہ ملتی تھیں تو اس کی صحت مشتبہ ہو جاتی تھی ۔ اگر کڑیاں نبی کریم ؐ تک پہنچ جاتیں لیکن بیچ میں کوئی راوی نا قابل اعتماد ہوتا تو ایسی روایت بھی قبول نہ کی جاتی تھی۔
آپ ذرا غور کریں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ دنیا کے کسی دوسرے انسان کے حالات اس طرح سے مرتب نہیں ہوئے ہیں ۔ یہ خصوصیت صرف نبی کریم ؐ کو حاصل ہے کہ آپ ؐ کے بارے میں کوئی بات بھی سند کے بغیر تسلیم نہیں کی گئی اور سند میں بھی صرف یہی نہیں دیکھا گیا کہ ایک حدیث کا سلسلہ روایت رسول اللہ ؐ تک پہنچتا ہے یا نہیں ، بلکہ یہ بھی دیکھا گیا کہ اس سلسلے کے تمام راوی بھروسے کے قابل ہیں یا نہیں ۔اس غرض کے لیے راویوں کے حالات کی بھی پوری جانچ پڑتال کی گئی اور اس پر مفصل کتابیں لکھ دی گئیں جن سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون قابل اعتماد تھا اور کون نہ تھا ۔ کس کی سیرت و کردار کا کیا حال تھا ۔ کس کا حافظہ ٹھیک تھا اور کس کا ٹھیک نہ تھا ۔ کون اس شخص سے ملا تھا جس سے اس نے روایت نقل کی ہے اور کون اس سے ملاقات کے بغیر ہی اس کا نام لے کر روایت بیان کر رہا ہے ۔ اس طرح اتنے بڑے پیمانے پر راویوں کے متعلق معلومات جمع کی گئی ہیں کہ آج بھی ہم ایک ایک حدیث کے متعلق یہ جانچ سکتے ہیں کہ وہ قابل اعتماد ذرائع سے آئی ہے یا نا قابل اعتماد ذرائع سے ۔
کیا انسانی تاریخ میں کوئی دوسرا شخص ایسا پایا جاتا ہے جس کے حالات زندگی اس قدر مستند طریقے سے منقول ہوئے ہوں ؟ اور کیا اس کی کوئی مثال ملتی ہے کہ ایک شخص کے حالات کی تحقیق کے لیے ان ہزار رہا آدمیوں کے حالات پر کتابیں لکھ دی گئی ہوں جنہوں نے اس ایک شخصیت کے متعلق کوئی روایت بیان کی ہو؟ موجودہ دور کے عیسائی اور یہودی علما احادیث کی صحت کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا جوزور صرف کر رہے ہیں ۔ اس کی اصل وجہ یہ حسد ہے کہ ان کے دین کی کتابوں اور ان کے پیشوایان دین کے حالات کی سرے سے کوئی سند ہی نہیں ۔ اسی جلن کے باعث انہوں نے اسلام اور قرآن اور محمد ؐ پر تنقید کے معاملہ میں علمی دیانت (intellectual honesty)کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے۔
حضورؐ کی زندگی کا ہر پہلو معروف و معلوم ہے
سیرت رسول اکرمؐ کی صرف یہی ایک خصوصیت نہیں ہے کہ وہ ہمیں نہایت مستند ذرائع سے پہنچی ہے ، بلکہ اس کی یہ بھی امتیازی خصوصیت ہے کہ اس میں آپؐ کی زندگی کے ہر پہلو کی اتنی تفصیلات ملتی ہیں جو تاریخ کے کسی دوسرے شخص کی زندگی کے بارے میں نہیں ملتیں۔آپؐ کا خاندان کیسا تھا ، آپ ؐ کی نبوت سے پہلے کی زندگی کیسی تھی ، آپؐ کو نبوت کس طرح ملی ، آپؐ پر وحی کیسے نازل ہوتی تھی ، آپؐ نے اسلام کی دعوت کس طریقے سے پھیلائی ، مخالفتوں اور مزاحمتوں کا مقابلہ کس طرح کیا ، اپنے ساتھیوں کی تربیت کیسے کی ، اپنے گھر میں آپ ؐ کس طرح رہتے تھے ، اپنی بیویوں اور بچوں سے آپؐ کا برتائو کیسا تھا ، اپنے دوستوں اور دشمنوں سے آپؐ کا معاملہ کیسا تھا ، کس اخلاق کی تعلیم آپ ؐ دیتے تھے اور آپ ؐ کا اپنا اخلاق کیسا تھا ، کس چیز کا آپؐ نے حکم دیا ، کس کام سے آپ ؐ نے منع کیا ، کس کا م کو آپؐ نے ہوتے دیکھا اور منع نہ کیا اور کس چیز کو ہوتے دیکھا اور منع فرمایا ۔ یہ سب کچھ ذرا ذرا سی تفصیلات کے ساتھ حدیث اورسیرت کی کتابوں میں موجود ہے ۔
آپؐ ایک فوجی جنرل بھی تھے اور آپ ؐ کی حکومت کے تمام حالات ہمیں ملتے ہیں ۔آپؐ ایک جج بھی تھے اور آپ ؐ کے سامنے پیش ہونے والے مقدمات کی پوری پوری رودادیں ہمیں ملتی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس مقدمے میں آپؐ نے کیا فیصلہ فرمایا ۔ آپ ؐ بازاروں میں بھی نکلتے تھے اور دیکھتے تھے کہ لوگ خرید و فروخت کے معاملات کس طرح کرتے ہیں ۔ جس کا م کو غلط ہوتے ہوئے دیکھتے ، اس سے منع فرماتے تھے اور جو کام صحیح ہوتے دیکھتے اس کی توثیق فرماتے تھے ۔ غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق آپ ؐ نے تفصیلی ہدایات نہ دی ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ ہم کسی بے جا تعصب کے بغیر ، پورے علم و یقین کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ تمام انبیاء ؑ اور پیشوایان مذاہب میں سے صرف ایک محمد رسولؐہی وہ ہستی ہیں جن کی طرف نوع انسانی ہدایات و رہنمائی کے لیے رجوع کر سکتی ہے ، کیونکہ آپ ؐ کی پیش کی ہوئی کتاب اپنے اصل الفاظ میں محفوظ ہے ، اور آپ ؐ کی سیرت ان تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ ، جو ہدایت کے لیے در کار ہیں ، نہایت مستند و معتبر ذرائع سے ہم تک پہنچی ہے ۔
اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آپ ؐ کی سیرت پاک ہمیں کیا پیغام اور کیا ہدایت دیتی ہے ۔
حضورؐ کا پیغام تمام انسانوں کے لیے ہے
اولین چیز جو ہمیں آپ ؐ کی دعوت میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ ؐ رنگ و نسل اور زبان و وطن کے سارے امتیازات کو نظر انداز کر کے انسان کو بحیثیت انسان مخاطب کرتے ہیں او رچند اصول پیش کرتے ہیں جو تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے ہیں ۔ ان اصولوں کو جو بھی مان لے وہ مسلمان ہے اور ایک عالمگیر امت مسلمہ کا فرد ہے ، خواہ وہ کالا ہو یا گورا ، مشرق کا رہنے والا ہو یا مغرب کا ، عربی ہو یا عجمی ۔ جہاں بھی کوئی انسان ہے ، جس ملک یا قوم یا نسل میں بھی وہ پیدا ہوا ہے ، جو زبان بھی وہ بولتا ہے اور جو رنگ بھی اس کی کھال کا ہے ، وہ محمد رسول اللہؐ کی دعوت کا مخاطب ہے اور اگر وہ آپ ؐ کے پیش کردہ اصولوں کو مان لیتا ہے تو بالکل مساوی حقوق کے ساتھ امت مسلمہ میں شامل ہو جاتا ہے ۔ کوئی چھوت چھات ، کوئی اونچ نیچ ، کوئی نسلی یا طبقاتی امتیاز ، کوئی لسانی یا قومی یا جغرافی افتراق ، جو عقیدے کی وحدت قائم ہو جانے کے بعد ایک انسان کو دوسرے انسان سے جدا کرتا ہو ، اس امت میں نہیں ہے۔
رنگ و نسل کے تعصبات کا بہترین علاج
آپ غور کریں تو محسوس کریں گے کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جو محمدؐ عربی کی بدولت انسانیت کو میسر آئی ہے ۔ انسان کو سب سے بڑھ کر جس چیز نے تباہ کیا وہ یہی امتیازات ہیں جو انسان اور انسان کے درمیان قائم کئے گئے ہیں ۔ کہیں اس کو نجس قرار دیا گیا اور اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا ، اس کے وہ حقوق نہیں ہیں جو برہمن کے حقوق ہیں ۔ کہیں اس کوفنا کر دینے کے قابل قرار دیا گیا کیونکہ وہ آسٹریلیا اور امریکہ میں ایسے وقت پیدا ہوگیا تھا جب باہر سے آنے والوں کو اس سے زمین خالی کرانے کی ضرورت تھی ۔ کہیں اس کو پکڑ کر غلام بنایا گیا اور اس سے جانوروں کی خدمت لی گئی ، کیونکہ وہ افریقہ میں پیدا ہوا تھا اور اس کا رنگ کالا تھا ۔ غرض نوع انسانی کے لیے قوم ، وطن ، نسل ، رنگ اور زبان کے یہ امتیازات قدیم ترین زمانے سے لے کر اس زمانے تک بہت بڑی مصیبت کا ذریعہ بنے رہے ہیں ۔ اسی بنیاد پر لڑائیاں ہوتی رہی ہیں ۔ اسی بنیاد پر ایک ملک دوسرے ملک پر چڑھ دوڑا ہے ۔ ایک قوم نے دوسری قوم کو لوٹا ہے اور پوری پوری نسلیں تباہ و برباد کر دی گئی ہیں ۔ نبی ؐ نے اس مرضی کا ایسا علاج فرمایا کہ دشمنان اسلام بھی مان گئے کہ رنگ ، نسل اور وطن کے امتیازات کو جس کامیابی سے اسلام نے حل کیا ہے ایسی کامیابی کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔
امریکہ کے افریقی النسل باشندوں کا مشہور لیڈر میلکم اِکس ، جو ایک زمانے میں گوری نسل کے خلاف کالی نسل کے شدید ترین تعصب کا علمبردار تھا ، اسلام قبول کر کے جب حج کے لیے گیا اور اس نے دیکھا کہ مشرق ، مغرب، شمال ، جنوب، ہر طرف سے ہر نسل کے لوگ ، ہر رنگ کے لوگ ، ہر وطن کے لوگ ،ہر زبان بولنے والے لوگ چلے آ رہے ہیں ، نعرے لگا رہے ہیں ، ایک ساتھ طواف کر رہے ہیں ، اور ایک ہی جماعت میں ایک امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ، تو وہ پکار اٹھا کہ رنگ و نسل کے مسئلے کا صحیح حل یہی ہے ، نہ کہ وہ جو ہم اب تک کرتے رہے ہیں ۔ اس مرحوم کو تو ظالموں نے قتل کر دیا ، مگر اس کی خود نوشت سوانح عمری شائع شدہ موجود ہے ۔ اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حج سے کیسا گہرا اثر اس نے قبول کیا تھا۔
یہ حج تو اسلام کی عبادات میں سے صرف ایک عبادت ہے ۔ اگر کوئی شخص آنکھیں کھول کر اسلام کی تعلیمات کو بحیثیت مجموعی دیکھے تو کسی جگہ بھی انگلی رکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیز کسی خاص قوم یا کسی قبیلے یا کسی نسل یا طبقے کے مفاد کے لیے ہے ۔ یہ تو پورا کا پورا دین ہی اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ تمام انسانوں کے لیے ہے اور اس کی نگاہ میں وہ سب انسان یکساں ہیں جو اس کے اصول قبول کر کے اس کی بنائی ہوئی عالمگیر برادری میں شامل ہو جائیں ۔ بلکہ یہ غیر مسلموں کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرتا جو گوروں نے کالوں کے ساتھ کیا ، جو سامراجی قوتوں نے اپنی محکوم قوموں کے ساتھ کیا ، جو کمیونسٹ حکومتوں نے اپنے دائرہ اقتدار میںرہنے والے غیر کمیونسٹوں کے ساتھ ، حتیٰ کہ خود اپنی پارٹی کے غیر مرغوب ارکان کے ساتھ کیا۔
اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ انسانیت کی فلاح کے لیے وہ کیا اصول ہیں جو رسول اللہ ؐ نے پیش فرمائے ہیں اوران میں کیا بات ایسی ہے جو نہ صرف فلاح انسانیت کی ضامن ہے بلکہ تمام انسانوں کو ایک وحدت کی لڑی میں پرو کر ایک امت بھی بنا سکتی ہے ۔
اللہ کی وحدانیت کا وسیع ترین تصور
ان میں سب سے مقدم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کوتسلیم کرنا ہے۔ صرف اس معنی میں نہیں کہ اللہ ہے ، اور محض اس معنی میں بھی نہیں کہ اللہ بس ایک ہے ۔ بلکہ اس معنی میں کہ اس کائنات کا واحد خالق ، مالک ، مدبر اور حاکم اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ کوئی دوسری ہستی پوری کائنات میں ایسی نہیں ہے جس کے پاس حاکمیت کا اقتدار ہو ، جس کو حکم دینے اور منع کرنے کا حق ہو ، جس کے حرام کرنے سے کوئی چیز حرام اور جس کے حلال کرنے سے کوئی چیز حلال ہو سکتی ہو ۔ یہ اختیارات اس کے سوا کوئی نہیںرکھتا ۔کیونکہ جو خالق اور مالک ہے ، اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنے بندوں کو اپنی پیدا کردہ دنیا میں جس چیز کی چاہے اجازت دے اور جس سے چاہے منع کردے ۔ اسلام کی دعوت یہ ہے کہ اللہ کو اس حیثیت سے مانو ۔ اس کو اس حیثیت سے مانو کہ ہم اس کے سوا کسی کے بندے نہیں ہیں اور اس کے قانون کے خلاف کسی کو ہم پر حکم چلانے کا حق نہیں ہے ۔ اس حیثیت سے مانو کہ ہمارا سر اس کے سوا کسی کے سامنے جھکنے کے لیے نہیں بنا ہے ۔ اس حیثیت سے مانو ہمارا جینا اور مرنا بالکل اس کے اختیار میں ہے ، جس وقت چاہے ہمیں موت دے سکتا ہے اور جس وقت تک چاہے ہمیں زندہ رکھ سکتا ہے ۔ اس کی طرف سے موت آئے تو دنیا کی کوئی طاقت بچا لینے والی نہیں اور وہ زندگی عطا کرے تو دنیا کی کوئی طاقت ہلاک کر دینے والی نہیں ۔ یہ ہے اسلام کا تصور خدا ۔
اس تصور کے مطابق زمین سے لے کر آسمانوں تک ساری کائنات خدا کی تابع فرمان ہے اور انسان جو اس کائنات میں رہتا ہے،اس کا بھی یہی کام ہے کہ خدا ہی کا تابع فرمان بن کر رہے ۔ اگر وہ خود مختار بنے یا خدا کے سوا کسی اور کی اطاعت اختیار کر لے تو اس کی زندگی کا نظام پورے نظام کائنات کے خلاف ہو جائے گا ۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھیے کہ ساری کائنات خدا کے حکم کے تحت چل رہی ہے ۔ یہ ایک امر واقعی ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا ۔ اب اگر ہم خدا کے سوا کسی اور کے حکم کے تحت چل رہے ہوں ، یا اپنی مرضی کے مختار بن کر جدھرجی چاہے ، چل رہے ہوں ، تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہماری زندگی کی گاڑی پوری کائنات کی گاڑی کے خلاف سمت میں چل رہی ہے ۔ ایک مستقل تصادم ہے جو ہمارے اور نظام کائنات کے درمیان ہورہا ہے۔
ایک اور پہلو سے دیکھئے ۔ اس تصور کے مطابق انسان کے لیے صحیح طریقہ حیات (Way of Life)صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے کیونکہ وہ مخلوق ہے اور اللہ اس کا خالق ہے ۔ مخلوق ہونے کی حیثیت سے اس کا خود مختار بن جانا بھی غلط ہے ، اور اپنے خالق کے سوا دو سروں کی بندگی کرنا بھی غلط ۔ ان دونوں راستوں میں سے جو راستہ بھی وہ اختیار کرے گا وہ حقیقت سے متصادم ہو گا اورحقیقت سے ٹکرانے کا نقصان خود ٹکرانے والے ہی کو پہنچتا ہے ۔ حقیقت کا اس سے کچھ نہیں بگڑتا ۔
بندگی رب کی دعوت
رسول اللہ ؐ کی دعوت یہ ہے کہ اس تصادم کو ختم کرو ۔ تمہاری زندگی کا قانون اور ضابطہ بھی وہی ہونا چاہیے جو پوری کائنات کا ہے ۔ تم نہ خود قانون ساز بنو اور نہ کسی دوسرے کا یہ حق تسلیم کرو کہ وہ خدا کی زمین میں خدا کے بندوں پر اپنا قانون چلائے ۔ قانون بر حق صرف خدا وند عالم کا قانون ہے ، باقی سب قوانین باطل ہیں ۔
اطاعتِ رسول ؐ کی دعوت
یہاں پہنچ کر ہمارے سامنے رسول اللہ ؐ کی دعوت کا دوسرا نکتہ آتا ہے ، اور وہ آپ ؐ کا یہ دو ٹوک بیان ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں ، اور نوع انسانی کے لیے اس نے اپنا قانون میرے ذریعہ سے بھیجا ہے۔ میں خود بھی اس قانون کا پابند ہوں خود مجھے بھی اس میں تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ میں اتباع کرنے پر مامور ہوں ۔ اپنی طرف سے کوئی نئی چیز اختراع کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ یہ قرآن وہ قانون ہے جو مجھ پر خدا کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور میری سنت وہ قانون ہے جو خدا کے حکم و ارشاد کی بنا پر میں جاری کرتا ہوں ۔ اس قانون کے آگے سر اطاعت جھکا دینے والا سب سے پہلے میں ہوں (انا اول المسلمین)اس کے بعدتمام انسانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ ہر دوسرے قانون کی پیروی چھوڑ کر اس قانون کی پیروی کریں۔
اللہ کے بعد اطاعت کا مستحق اللہ کا رسول ؐ ہے
کسی کو یہ شبہ لاحق نہ ہو کہ رسول اللہ ؐ خود اپنی سنت کی اطاعت و پیروی کیسے کر سکتے تھے جبکہ وہ آپ ؐ کا اپنا ہی قول یا فعل ہوتا تھا ؟اس معاملے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ قرآن جس طرح خدا کی طرف سے تھا ، اسی طرح رسول ہونے کی حیثیت سے جو حکم آپ ؐ دیتے ، یا جس کام سے آپ ؐ منع فرماتے ، یا جس طریقے کو آپ ؐ مقرر کرتے تھے ، وہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوتا تھا ۔ اسی کا نام سنت رسول ؐ ہے ، اور اس کی پیروی آپ ؐ خود بھی اسی طرح کرتے تھے جس طرح سب اہل ایمان کے لیے اس کی پیروی لازم تھی ۔ یہ بات ایسے مواقع پر پوری طرح واضح ہو جاتی تھی جب صحابہ کرام ؓ کسی معاملے میں آپؐ سے پوچھتے تھے کہ یا رسول اللہ ؐ ، کیا آپ ؐ یہ اللہ کے حکم سے فرما رہے ہیں یا یہ آپ ؐ کی اپنی رائے ہے ، اور آپ ؐجواب دیتے تھے کہ اللہ کا حکم نہیںہے بلکہ میری رائے ہے ، اور یہ معلوم ہونے کے بعدصحابہ ؓ حضور ؐ کی رائے سے اختلاف کر کے اپنی تجویز پیش کرتے تھے ، اور آپ ؐ اپنی رائے چھوڑ کر ان کی تجویز قبول فرما لیتے تھے ۔ اسی طرح یہ بات ان مواقع پر بھی کھل جاتی تھی جب آپ ؐ کسی معاملے میں صحابہ ؓ سے مشورہ طلب فرماتے تھے ۔ یہ مشاورت خود اس امر کی دلیل ہوتی تھی کہ اس معاملے میں خدا کی طرف سے کوئی حکم نہیں آیا ہے ، کیونکہ خدا کا حکم ہوتا تو اس میں مشاورت کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہو سکتا تھا ۔ ایسے مواقع رسول اکرمؐ کے عہد میں بار ہا پیش آئے ہیں جن کی تفصیلات احادیث میں ہم کو ملتی ہیں ۔ بلکہ صحابہ ؓ کا تو یہ بیان ہے کہ ہم نے حضورؐسے زیادہ مشاورت کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔
اس پر آپ ؐ غور کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ بھی حضورؐ کی سنت ہی تھی کہ جس معاملہ میں اللہ کا حکم نہ ہو اس میں مشورہ کیا جائے ، اور کوئی دوسرا حاکم تو در کنار ، اللہ کا رسولؐ تک اپنی ذاتی رائے کو لوگوں کے لیے فرمان واجب الاذعان نہ قرار دے ۔ اس طرح رسول اللہ ؐ نے امت کو شوریٰ کے طریقے سے کام کرنے کی تربیت دی ، اور لوگوں کو یہ سکھایا کہ جس معاملہ میں حکم الٰہی ہو، اس میں بے چون و چرااطاعت کرواور جہاں حکم الٰہی نہ ہو ، وہاں آزادی رائے کا حق بے خوف و خطر استعمال کرو۔
آزادی کا حقیقی چارٹر
یہ نوع انسانی کے لیے آزادی کاوہ چارٹر ہے جو دین حق کے سوا دنیا میں کسی نے اس کو نہیں دیا ۔ اللہ کے بندے صرف ایک اللہ ہی کے بندے ہوں اور کسی کے بندے نہ ہوں ، حتیٰ کہ اللہ کے رسولؐ کے بندے بھی نہ ہوں ، اس نے انسان کو ایک خدا کے سوا ہر دوسرے کی بندگی سے آزاد کردیا اور انسان پر انسان کی خدائی ہمیشہ کے لیے ختم کردی ۔
اس کے ساتھ ایک عظم ترین نعمت جو اس پیغام نے انسان کو عطا کی وہ ایک ایسے قانون کی بالاتری ہے جسے توڑنے مروڑنے اور رد و بدل کا تختہ مشق بننے کا اختیار کسی بادشاہ یا ڈکٹیٹر یا جمہوری مجلس قانون ساز یا اسلام قبول کرنے والی کسی قوم کو حاصل نہیں ہے ۔ یہ قانون خیرو شر کی مستقل قدریں (Permanent Values) انسان کو دیتا ہے جنہیں بدل کر کبھی کوئی خیر کو شر اور شر کو خیر نہیں بنا سکتا۔
خدا کے حضور جواب دہی کا تصور
تیسری بات جورسول اللہ ؐ نے بند گان خدا کو بتائی وہ یہ ہے کہ تم خدا کے سامنے جو اب دہ ہو۔ تم اس دنیا میں شتر بے مہار بنا کر نہیں چھوڑ دئیے گئے ہو کہ اپنی مرضی سے جو چاہو کرتے رہو ، جس کھیت میں چاہو چرتے پھرو، اور کوئی تمہیں پوچھنے والا نہ ہو ۔ بلکہ تم اپنے ایک ایک قول ،اور اپنی پوری اختیاری زندگی کے اعمال کا حساب اپنے خالق و معبود کو دینے والے ہو ۔ مرنے کے بعد تمہیں اٹھنا پڑے گا اور اپنے رب کے سامنے باز پرس کرنے کے لیے پیش ہونا پڑے گا۔
یہ ایک ایسی زبردست اخلاقی طاقت ہے جو اگر انسان کے ضمیر میں جاگزیں ہو جائے تو اس کا حال ایسا ہوگا جیسے اس کے ساتھ ہر وقت ایک چوکیدار لگا ہوا ہے جو برائی کے ہر ارادے پر اسے ٹوکتا اور ہر اقدام پر اسے روکتا ہے ۔ باہر کوئی گرفت کرنے والی پولیس اور سزا دینے والی حکومت موجود ہو یا نہ ہو، اس کے اندر ایک ایسا محتسب بیٹھا رہے گا جس کی پکڑ کے خوف سے وہ کبھی خلوت میں ، یا جنگل میں ،یا اندھیرے میں یا کسی سنسان جگہ میں بھی خدا کی نا فرمانی نہ کر سکے گا ۔ اس سے بڑھ کر انسان کی اخلاقی اصلاح اور اس کے اندرایک مستحکم کردار پیدا کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔ دوسرے جتنے ذرائع سے بھی آپؐ اخلاق سنوار نے کی کوشش کریں گے ، اس سے آگے نہ بڑھ سکیں گے کہ بھلائی دینا میں فائدہ مند اور برائی نقصان دہ ہے اور یہ کہ ایمان داری ایک اچھی پالیسی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پالیسی کے اعتبار سے اگر برائی اور بے ایمانی مفید ہو اور اس سے نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو اسے بلا تکلف کرڈالا جائے۔
اسی نقطۂ نظر کا تویہ نتیجہ ہے کہ جو لوگ اپنی انفرادی زندگی میں اچھا رویہ رکھتے ہیں وہی اپنے قومی کردار میں انتہا درجے کے بے ایمان ،دغا باز ، لٹیرے اور ظالم و جابر بن جاتے ہیں بلکہ انفرادی زندگی میں بھی وہ اگر بعض معاملات میں اچھے ہوتے ہیں تو بعض دوسرے معاملات میں بہت برے ہوتے ہیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک طرف وہ کاروبار میں کھرے اور برتائو میں خوش اخلاق ہیں تو دوسری طرف شرابی ، زانی ، جواری اور سخت بد کار و سیاہ کار ہیں ۔ انکا مقولہ یہ ہے کہ آدمی کی پبلک زندگی اور چیزہے اور پرائیویٹ زندگی اور چیز ۔ نجی زندگی کے کسی عیب پر کوئی ٹو کے تو ان کا گھڑا گھڑا یا جواب یہ ہوتا ہے کہ اپنے کام سے کام رکھو (mind your business)۔ اس کے بالکل برعکس آخرت کا عقیدہ ہے جو کہتا ہے کہ برائی ہر حال میں برائی ہے خواہ دنیا میں وہ مفید ہو یا نقصان دہ ۔ جو شخص خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھتا ہو ، اس کی زندگی میں پبلک اور پرائیویٹ کے دو شعبے الگ الگ نہیں ہو سکتے ۔ وہ ایمان داری اختیار کرتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ یہ اچھی پالیسی ہے ، بلکہ اس کے عین وجود میں ایمان داری شامل ہوتی ہے اور وہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ اس کا کام کبھی بے ایمانی کرنا بھی ہو سکتا ہے ۔ اس کا عقیدہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ تم اگربے ایمانی کرو گے تو جانوروں کی سطح سے بھی نیچے جا پڑو گے ، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ لقد خلقنا النسان فی احسن تقویم ثم رددنہ اسفل سفلین ۔’’ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ، پھر اسے اوندھا کر سب نیچوں سے نیچ کر دیا ‘‘۔
اس طرح رسول اللہ ؐ کی رہنمائی سے انسان کو صرف ایک مستقل اخلاقی اقدار رکھنے والا نا قابل تبدیل قانون ہی نہیں ملا ، بلکہ انفرادی اور قومی اخلاق و کردار کے لیے ایک ایسی بنیاد بھی مل گئی جو کبھی متزلزل ہونے والی نہیں ہے ، جو اس بات کی محتاج نہیں ہے کہ کوئی حکومت موجود ہو ، کوئی پولیس موجود ہو، کوئی عدالت موجود ہو ، تو آپ سیدھے راستے پر چلیں ، ورنہ مجرم بن کر رہیں ۔
رہبانیت کے بجائے دنیا داری میں اخلاق کا استعمال
رسول اللہ ؐ کی دعوت ایک اور اہم سبق ہمیں دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اخلاق راہوں کے گوشۂ عزلت کے لیے نہیں ہے ، درویشوں کی خانقاہوں کے لیے نہیں ہے ، بلکہ دنیا کی زندگی کے ہر شعبے میں برتنے کے لیے ہے ۔ جس روحانی اوراخلاقی بلندی کودنیا فقیروںاور درویشوں میں تلاش کرتی تھی ، رسول اللہ ؐ اسے حکومت کی مسند پراور عدالت کی کرسی پر اٹھا لائے ۔ آپ نے تجارت کے کاروبار میں خدا ترسی اور دیانت سے کام لینا سکھایا ۔ آپ ؐ نے پولیس اور فوج کے سپاہیوں کو تقویٰ اور پرہیز گاری کا سبق دیا ۔ آپ ؐ نے انسان کی اس غلط فہمی کو دور کیا کہ خدا کا ولی وہ ہوتا ہے جو تارک الدنیا ہو کر بس اللہ اللہ کرتا رہے ۔ آپ ؐ نے بتایا کہ ولایت اس کا نام نہیں ہے ، بلکہ اصل ولایت یہ ہے کہ آدمی ایک حاکم ، ایک قاضی، ایک سپہ سالار ، ایک تھانیدار ، ایک تاجر و صنعت کار ، اور دوسری تمام حیثیتوں سے ایک پورا دنیا دار بن کر بھی ہر اس موقع پر اپنا خداترس اوردیانت دار ہونا ثابت کردے جہاں اس کے ایمان کو آزمائش سے سابقہ پیش آئے ۔ اس طرح آپؐ اخلاق و روحانیت کورہبانیت کے گوشوں سے نکال کر معیشت و معاشرت، سیاست وعدالت اور صلح وجنگ کے میدانوں میں لے آئے اور یہاں پاکیزہ اخلاق کی حکمرانی قائم کی۔
حضور ؐ کی ہدایت کا فیض
یہ اسی رہنمائی فیض تھا کہ اپنی نبوت کے آغاز میں جن لوگوںکو آپؐ نے ڈاکو پایا تھا ان کو اس حالت میں چھوڑا کہ وہ امانت دار اور خلق خدا کی جان و مال اور آبرو کے محافظ بن چکے تھے ۔جن لوگوںکو حق مارنے والا پایا تھا انہیں حق اداکرنے والا ، حقوق کی حفاظت کرنے والا، اور حقوق دلوانے والا بنا کر چھوڑا ۔ آپ ؐ سے پہلے دنیا ان حاکموں سے واقف تھی جو ظلم و جور سے رعیت کو دبا کر رکھتے تھے اور اونچے اونچے محلوں میں رہ کر اپنی خدائی کا سکہ جماتے تھے ۔ آپ ؐ نے اسی دنیا کو ایسے حاکموں سے روشناس کرایا جو بازاروں میں عام انسانوں کی طرح چلتے تھے اور عدل و انصاف سے دلوں پر حکومت کرتے تھے آپؐ سے پہلے دنیا ان فوجوں سے واقف تھی جو کسی ملک میں گھستی تھیں تو ہر طرف قتل عام برپا کرتی ، بستیوں کو آگ لگاتی اور مفتوح قوم کی عورتوں کو بے آبرو کرتی پھرتی تھیں ۔
آپ ؐ نے اسی دنیا کو ایسی فوجوں سے متعارف کرایا جو کسی شہر میں فاتحانہ داخل ہوتیں تو دشمن کی فوج کے سوا کسی پر دست درازی نہ کرتی تھیں اور فتح کیے ہوئے شہر سے وصول کئے ہوئے ٹیکس تک انہیں واپس کر دیتی تھیں ۔ انسانی تاریخ ملکوںاور شہروں کی فتح کے قصوں سے بھری پڑی ہے ۔ مگر فتح مکہ کی کوئی نظیر آپ کو تاریخ میں نہ ملے گی جس شہر کے لوگوں نے تیرہ برس تک رسول اللہ ؐ پر ظلم و ستم ڈھایا تھا، اسی شہر میں آپ ؐ کا فاتحانہ داخلہ اس شان سے ہوا تھا کہ آپ ؐ کا سر خدا کے آگے جھکا جا رہا تھا ، آپ ؐ کی پیشانی اونٹ کے کجاوے سے لگی جا رہی تھی اور آپ ؐ کے طرز عمل میں غرور و تکبر کا شائبہ تک نہ تھا ۔ وہی لوگ جو ۱۳ برس تک آپ ؐ پر ظلم و ستم کرتے رہے تھے ، جنہوں نے آپ ؐ کو ہجرت پر مجبور کردیا تھا ، اور جو ہجرت کے بعد بھی آٹھ برس تک آپ ؐ سے بر سر جنگ رہے تھے ، جب مغلوب ہو کر آپؐ کے سامنے پیش ہوئے تو انہوںنے آپ ؐ سے رحم و کرم کی التجا کی اور آپ ؐنے انتقام لینے کے بجائے فرمایا کہ لا تثریب علیکم الیوم اذھبو فانتم الطلقاء’’آج تم پر کوئی گرفت نہیں ، جائو ، تم چھوڑ دئیے گئے ‘‘۔
رسول اللہ ؐ کے اس نمونے کا جو اثر آپ ؐ کی امت پر پڑا ہے اس کا اگر کوئی شخص اندازہ کرنا چاہے تو تاریخ میں خود دیکھ لے کہ مسلمان جب اسپین میں داخل ہوئے تو ان کا رویہ کیا تھا اور جب عیسائیوں نے ان پر فتح پائی تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ۔ صلیبی لڑائیوں کے زمانے میں جب عیسائی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا برتائو کیا اور مسلمانوں نے جب بیت المقدس کو ان سے واپس لیا تو عیسائیوں کے ساتھ ان کا برتائو کیا تھا۔
حضرات، رسول اکرم ؐ کی سیرت ایک بحرذخار ہے جس کا احاطہ کرنا کسی بڑی کتاب میں بھی ممکن نہیں ہے ، کجا کہ ایک تقریر میں کیا جا سکے ۔ تاہم میں نے زیادہ سے زیادہ ممکن اختصار کے ساتھ اس کے چند نمایاںپہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس واحد ذریعہ ہدایت سے رہنمائی حاصل کریں۔
٭…٭…٭