عبادت کاحقیقی مفہوم

’’اسلام‘‘ کی لفظی تصویر بنائی جائے تو کچھ اس قسم کانقشہ سامنے آتا ہے ۔ ایمانیات، عبادات، معاملات، اخلاق ۔
عبادت کالفظ عبد سے بنا ہے عبد کے معنی ہیں بندہ یا غلام اور عبادت کے لغوی معنی ہیں بندگی یا غلامی ۔ عبادت کا لفظ ذہن میں آتے ہی پہلا خیال نماز کا آتا ہے ۔ذہن میں ذرا مزید وسعت ہو تو روزہ ، زکٰوۃ اور حج کا خیال آجاتا ہے اور عام لوگ انہی کو عبادات سمجھتے ہیں لیکن ’’ عبادت‘‘ کا لفظ اپنے اندر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔
عبادت کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے عقائد صحیح ہوں ۔ جب انسان کلمہ طیبہ ، ایمان ِ مجمل اور ایمانِ مفصل کو اچھی طرح سمجھ لیتا ہے ان میںبتائی جانے والی باتوں کا زبان سے بھی اقرار کر لیتا ہے اور دل سے بھی ان کی تصدیق کرتاہے تو عبادت کے لفظ کا مفہوم متعین کرنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے ۔ عقیدۂ توحید دل میںجاگزیں ہو تو بے اختیار یہ حدیث ذہن میں آتی ہے ۔ قو لو الاالٰہ اللہ تفلحوا۔ ’’ لا الہ الّا اللہ کہہ دو فلاح پا جائو گے ۔‘‘
یاد رہے کہ فلاح سے مراد دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی ہے لیکن کیا صرف زبان سے لا الہ الا اللہ کہہ دینا کا فی ہے ؟ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں : لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ’’ تم وہ بات کیوںکہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو۔( الصف:۲)بہت سی آیات واحادیث سے اس بات کی تصریح ہوتی ہے کہ عقیدۂ توحید محض ایک زبانی اقرار یا عقیدہ نہیں بلکہ عملی زندگی میں اس کے بہتسے تقاضے ہیں۔ گویا کلمہ طیبہ صرف ایک قول نہیںبلکہ چند اعمال کا بھی متقاضی ہے ۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ قول اور فعل چولی دامن کا ساتھ رکھتے ہیں ۔ یہی حیثیت عقائد اورعبادات کی ہے۔ عبادات در اصل عقائد کی عملی صورت ہیں ۔ حدیث مبارک ہے کہ ’’ایمان عمل کے بغیر قبول نہیں ہوتا اور عمل ایمان کے بغیر قبول نہیں ہوتا ۔‘‘
عقائد کو عمل میںڈھالنے کا نام عبادت ہے لیکن عبادت سے مراد محض پانچ وقت نماز پڑھ لینا ، رمضان کے روزے رکھ لینا ، سال میں ایک بار زکٰوۃ ادا کرنا اور زندگی میں ایک بار حج کر لینا نہیں اور نہ ہی عبادت سے مراد یہ ہے کہ انسان 24گھنٹے میں سے کثیر وقت نفلی نمازوں ، ذکر اور تسبیحات میں مصروف رہے اور دنیاوی معاملات سے الگ تھلگ ہو جائے یا معاشرے اور عزیز و اقارب سے تعلق توڑ دے بلکہ عبادت کو اگر ہم بندگی کے صحیح مفہوم میں سمجھیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے آپ کو دنیاوی آقائوں کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں دے دے ۔
اگر کوئی بندہ یہ کہے کہ پانچ وقت تو اللہ کی بندگی کروں گا اس کے بعد میں جو چاہوں کروں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے عبادت کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَلِْا نْسَ اِلَّا لَیْعُبدُوْنِ’’ اور میں نے جنوں اور انسانوں کوصرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ‘‘(الذریت۵۶)۔اب اگر عبادت سے مراد ہم نماز ہی لیں تو پھر اس آیت کی رو سے تو انسان ہر وقت نماز ہی پڑھتا رہے۔ نہیں ۔ در اصل عبادت سے مراد ہے کہ انسان جہاںبھی ہو ، جس وقت اور جس حالت میں ہو، دن ہو یا رات ، خلوت ہو یا جلوت ، آبادی میں ہو یا ویرانے میں ، دفتر میں ہو یا گھر میں ، بازار میں ہو یا عدالت میں ملازمت کرتا ہو یا تجارت، سیاسی سرگرمیوں میں لگا ہو یا معیشت کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہو علم سیکھ رہا ہو یا سکھا رہا ہو ، گھر والوں کے ساتھ ہو یا پڑوسیوں کے ساتھ، اپنے آپ کو ہر وقت اللہ کا بندہ تصور کرے اور اپنے ہر عمل ہر حرکت میں اس بات کا خیال رکھے کہ ایک طاقت ہے جو صرف مجھ پر ہی نہیں بلکہ ساری کائنات پر حکمران ہے ۔ وَسِٰعَ کُرْسِیّْہُ اسَمٰوَاتِ ولْاَرضَ اُس کی بادشاہی ( اقتدار ) آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔(البقرۃ:۲۵۵)
اُسی نے مجھ پر کراماً کا تبین مقرر کر رکھے ہیں جو میرے ہر ہر عمل کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں ۔ ’’ کوئی لفظ انسان کی زبان سے نہیںنکلتاجسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگران ( فرشتہ ) موجود نہ ہو۔‘‘(ق:۱۸)
وہی میری موت و حیات کا مالک ہے اور مختارِ کل ہے ۔ ’’ پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیںاور تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کولوٹا کیوںنہیں لاتے ‘‘( جوبدن سے نکل رہی ہوتی ہے ۔ ) (الواقعہ: ۸۶، ۸۷ )
آئیے اب ذرا غور کریں کہ عبد اور معبود ، بندے اور آقا کے تعلق کی کیا نوعیت ہے ، اور آقا کے مقابلے میں بندوں کا سا طریقہ اختیار کرنے کی کیا صورت ہے ۔
بندے کا پہلا کام
یہ ہے کہ آقا ہی کو آقا سمجھے اور خیال کرے کہ جو میرا مالک ہے مجھے رزق دیتا ہے میری حفاظت ونگہبانی کرتا ہے اسی کی وفا داری مجھ پر فرض ہے ’’ اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ‘‘ ( بنی اسرائیل :۲۳) ۔جب رب ہی نے فیصلہ کر دیا تو ہم اس کے فیصلے کو بدلنے والے کون ؟
’’ پس لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس گھر ( بیت اللہ ) کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیںبھوک میں کھانا کھلایا اور خوف میںامن بخشا ‘‘۔ (القریش:۳تا۵)
’’ پس آپ ؐ اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ر ہیں اور سجدہ کرنے والوںمیںشامل ہو جائیں اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں حتیٰ کہ آپؐ کو موت آجائے ‘‘۔( الحجر:۹۸،۹۹)
گویا زندگی کے آخری سانس تک عبادت کا حکم دیا گیا ۔ اللہ کی عبادت عقل کا بھی تقاضا ہے اور علم کا بھی ۔’’ اور مجھے کیا ہے ( کیا میں بے عقل ہوں) کہ میں اس ( رب ) کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اُسی کی طرف تم سب لوٹائے جائو گے ‘‘۔(یٰس:۲۲)
کہہ دیجئے ، اے جاہلو! کیا تم مجھ سے کہتے ہو کہ میںاللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرو ں(الزمر:۶۴)
’’ بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں ( منہ موڑتے ہیں ) ووہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہو ں گے‘‘ ۔(المومن:۶۰)
بندے کا دوسرا کام
یہ ہے کہ ہر وقت آقا کی اطاعت کرے ۔ اس کا حکم بجا لائے کبھی اس کی خدمت سے منہ نہ موڑے اور آقا کی مرضی کے خلاف کبھی نہ خود اپنے دل سے کوئی بات کرے نہ کسی دوسرے شخص کی بات مانے ۔ قرآن مجید میں عبادت کا لفظ اطاعت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ۔’’ اے بنی آدم! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی عبادت ( اطاعت) نہ کرنا۔ بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘(یٰس ٓ:۶۰)۔اطاعت ِ رسول ؐ بھی اللہ کی عبادت کا درجہ رکھتی ہے ۔ ’’(نوحؑ نے ) کہا : اے میری قوم ! میں تمہیںصاف صاف ڈرانے والا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ‘‘ (نوح:۲،۳)۔
بندے کا تیسرا کام
یہ ہے کہ آقا کا ادب اور تعظیم کرے۔ جو طریقہ آقا نے ادب اور تعظیم کا مقرر کیا ہو اس وقت ضرور حاضر ہو ( نماز ادا کرے ) اور اس بات کا ثبوت دے کہ میںاس کی وفا داری اور اطاعت میںثابت قدم ہوں ۔
’’ بے شک نماز مومنوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے ‘‘ ( النساء:۱۰۳)۔
عبادت کے ثمرات: نماز ، روزہ ، زکوٰۃ، حج جیسی عبادات فرض کا درجہ رکھتی ہیں جن کی ادائیگی ضروری ہے ۔ یہ چھوٹی چھوٹی عبادات انسان کے دل میں یادِ خدا ، خوفِ خدا ،تقویٰ ،ذکر ، شکر توکل اور اخلاص جیسی صفات پیدا کر کے اسے اس قابل بناتی ہیں کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ اخلاق و کردار کے جوہر پیدا کر کے اپنے آپ کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کر سکے جس کا تقاضا اسلام اپنے ماننے والوںسے کرتا ہے۔ یعنی زندگی کاہر لمحہ اللہ کی عبادت یعنی اطاعت میں صرف کرنا ۔
اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْریْ۔’’ میری یاد کے لیے نماز قائم کرو‘‘۔(طہ:۱۴)
’’ اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوںکو پیدا کیا تاکہ تم میں تقویٰ (خوفِ خدا) کی صفت پیدا ہو جائے ‘‘۔( القرۃ:۲۱)
’’ (شرک نہ کرو)بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر کرنے والوں میں شامل ہو جائو ‘‘۔( الزمر:۲۶)
عبادات میں حسن:
انسان جسم اور روح کا مرکب ہے ۔ اسی طرح عبادات کا ایک ظاہری پہلو ہے جس کی بنا پر ہم انہیںبدنی عبادات کہتے ہیںاور ایک روحانی پہلو ہے جس پر توجہ دینے سے انسان کی روحانی تربیت ہوتی ہے جسمانی پہلو کا حق ادا کرنے کے لیے انسان کوشش کرتا ہے کہ فقہ اور حدیث کا علم حاصل کرے اور ان کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ٹھیک طریقے سے وضو کرے نماز کے تمام ارکان درست طریقے سے ادا کرے ۔ جس نماز کی جتنی رکعتیں ہیں اتنی ہی ادا کرے اور ان میںجو کچھ پڑھنے کو بتایا گیا ہے وہی کچھ پڑھے۔ ایسا کرنے سے انسان کی نماز ادا ہو جاتی ہے لیکن اس میں حسن پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان تصوف( احسان) کی طرف توجہ دے اور خیال رکھے کہ عبادت کے دوران اس کے دل کا کیا حال رہا ۔ اللہ کی طرف کتنی توجہ رہی ۔ دل، دنیا کے خیالات سے پاک ہوا یا نہیں ۔ نماز سے اللہ کی یاد ، اُس کے حاضر و ناظر ہو نے کا یقین اور صرف اس کی خوشنودی چاہنے کا جذبہ پیدا ہوا یا نہیں ۔ اسی تصوف کو قرآن نے حکمت یا تزکیہ کا نام دیا ہے ۔
’’ پس کامیاب ہو گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیا پس نماز پڑھی‘‘(الاعلیٰ:۱۴،۱۵)۔اسی تصوف کو حدیث میں ’’ احسان‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ حدیث جبرئیل میں مذکور ہے کہ جبرائیل ؑ حضور اکرمؐ کے پاس انسانی صورت میں تشریف لائے اور آپؐ سے بہت سے سوالات کیے تاکہ صحابہ کرام ؓ آپؐ سے دین کا علم سیکھ لیں ۔ ان میں ایک سوال جبرئیل ؑ نے یہ کیا کہ احسان کیا ہے؟حضورؐ نے جواب میںفرمایا :’’ احسان یہ ہے کہ تم اس طرح نماز پڑھو گویا کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ کیفیت طاری نہ ہو سکے تو کم از کم یہ تو محسوس کرو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے‘‘۔
احسان کا یہی جذبہ ہماری عبادات میں حسن پیدا کرتا ہے ۔ ابتدائی دور میں تصوف اسی احسان اور اخلاص کا نام تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعد کے زمانوں میں علم اور اخلاق کے زوال سے جہاں بہت سی خرابیاں پیدا ہوئیں تصوف کے پاک چشمے کو بھی گند ا کر دیا گیا ۔ لوگوں نے طرح طرح کے غیر اسلامی فلسفے گمراہ قوموں سے سیکھے اور اسے تصوف کے نام سے اسلام میں داخل کر دیا جن کی کوئی اصل قرآن یا حدیث میںنہیں ملتی ۔حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہاں تک سمجھ لیا کہ صوفی شریعت کی پابندی سے بالا تر ہے ۔ اسلام میں کسی ایسے تصوف کی گنجائش نہیں جو فرض عبادات اورشریعت کے احکام سے بے تعلق ہو ۔ اس میں شک نہیں کہ رزقِ حلال اور خدمتِ خلق عین عبادت ہے لیکن یہ اچھے اعمال بھی فرض عبادات سے کسی کو استثنیٰ نہیں دے سکتے ۔
احسان اور اخلاص سے بھرپور عبادات ہی ہیں جو بندے کو زندگی کے ہر ہر لمحے میںاللہ تعالیٰ کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں اور عملی زندگی میں اُسے اس مقام تک پہنچا دیتی ہیں کہ اس کا کھانا بھی عبادت بن جاتا ہے اور پینا بھی ۔ اُسکا سونا بھی عبادت اور جاگنا بھی ۔ اُس کا چلنا پھرنا بھی عبادت اورملنا جلنا بھی کیونکہ یہ تمام کام وہ اللہ کے احکام کے مطابق اور اسی کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے کررہا ہوتا ہے ۔ حتیٰ کہ بندے کا ماں باپ کی خدمت کرنا، بچوں سے پیار کرنا ، ان کی خاطر حلال روزی کے لیے دوڑ دھوپ کرنا ، طالب ِ علم کا حصولِ علم کے لیے جدوجہد کرنا استاد کا اپنے طلبہ کے لیے تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا، ڈاکٹر کاخلوص و محنت سے مریضوں کا علاج کرنا ، انجینئر کا دیا نتداری سے عمارات ، سڑکیں اور پل بنانا ، حکمران کا اللہ کو مقتدرِ اعلیٰ اور محتسب ِ اعلیٰ سمجھتے ہوئے عاجزی ، سادگی اور دیانتداری سے مملکت کے معاملات کو چلانا ، عوام کے حقوق ادا کرنا اور انہیںانصاف مہیا کرنا ، قومی وسائل اور دولت کو امانت سمجھ کر دیانتداری سے انہیں استعمال کرنا ۔ یہ سب کام عبادت میں شمار ہو جاتے ہیں بشرطیکہ ان میںایمان اور اخلاص شامل ہو ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں زندگی کے ہر ہر لمحے میں اپنا ’’ بندہ‘‘ بن کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَلِْا نْسَ اِلَّا لَیْعُبدُوْن کا حق ادا کر سکیں ۔ آمین

پروفیسرامینہ سراج:
استفادہ:
خطبات، دینیات، سید ابو الا علیٰ مودودیؒ٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *